❮
❯
حدیث نمبر: 2496
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ بِغُلَامٍ صَبِيٍّ تَدْعُو لَهُ ، فَرَفَعُوا وِسَادَةً كَانَ عَلَيْهَا الصَّبِيُّ ، فَرَأَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَحْتَهَا مُوسَى ، فَقَالَتْ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : نَجْعَلُهَا مِنَ الْجِنِّ وَالْفَزَعِ ، قَالَ : فَأَخَذَتْهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَرَمَتْ بِهَا ، وَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبْغِضُ الطِّيَرَةَ وَيَكْرَهُهَا .
ترجمہ

ام علقمہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ باندی) سے روایت ہے کہ وہ ایک چھوٹے بچے کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لائیں تاکہ وہ اس کے لیے (خیر و برکت کی) دعا فرمائیں، اسی دوران جب لوگوں نے وہ تکیہ اٹھایا جس پر بچہ لیٹا ہوا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے نیچے ایک استرا رکھا ہوا دیکھا، آپ رضی اللہ عنہا نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے جواباً عرض کیا: (ہم نے اسے یہاں اس لیے رکھا ہے کہ) ہم اسے جنات کے شر اور بچے کے اچانک ڈر جانے یا سہم جانے سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے پکڑا اور باہر پھینک دیا اور فرمایا: ”یقیناً رسول اللہ ﷺ بدشگونی، توہم پرستی اور فالِ بد سے سخت بغض رکھتے تھے اور اسے ناپسند فرماتے تھے۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے مسند ابی یعلیٰ میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن ابی الزناد راوی ہیں جن کے حافظے پر کلام ہے، تاہم بدشگونی اور توہم پرستی کی ممانعت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 7083»