المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ نفي العدوى والفرار مِنْ المجذوم وَالزَّجْرِ عَنْ الطيرة باب: چھوت کی نفی، جذامی سے دور رہنے اور بدشگونی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَحَرَ وَلَا سُحِرَ لَهُ ، وَلَا تَطَيَّرَ وَلَا تُطُيِّرَ لَهُ ، وَلَا تَكَهَّنَ وَلَا تُكُهِّنَ لَهُ " .
2495 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ بِهِ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم (مسلمانوں کے طریقے) میں سے نہیں ہے جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کروایا گیا، اور نہ ہی وہ شخص جس نے بدفالی (بدشگونی) لی یا جس کے لیے بدفالی لی گئی، اور نہ ہی وہ شخص جس نے کہانت (غیب کی خبریں بتانے کا پیشہ) اختیار کیا یا جس کے لیے کہانت کی گئی۔“
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوموسیٰ نے ہمیں ابوعامر کے واسطے سے یہ حدیث بیان کی اور مزید فرمایا کہ ہمیں اس حدیث کا علم صرف اسی سند اور اسی طریق سے ہے۔