المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ نفي العدوى والفرار مِنْ المجذوم وَالزَّجْرِ عَنْ الطيرة باب: چھوت کی نفی، جذامی سے دور رہنے اور بدشگونی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2494
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا رَدَّكَ أَوْ أَمْضَاكَ " .ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بدشگونی تو بس وہی ہے جو تمہیں (کسی کام سے) روک دے یا تمہیں (اسی کے سہارے) آگے بڑھنے پر ابھارے۔“
اس کی تخریج امام ابویعلیٰ نے کی ہے، اس کی سند میں جعفر بن الزبیر نامی راوی ضعیف ہے، تاہم مفہوم کے اعتبار سے اس کی تائید دیگر احادیثِ صحیحہ سے ہوتی ہے۔