المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ نفي العدوى والفرار مِنْ المجذوم وَالزَّجْرِ عَنْ الطيرة باب: چھوت کی نفی، جذامی سے دور رہنے اور بدشگونی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2493
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ : لَا تَضُرُّ الطِّيَرَةُ إِلَّا مَنْ تَطَيَّرَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بدشگونی یا بدفالی (اپنی ذات میں) ہرگز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی، سوائے اس شخص کے جو اسے خود اپنے اوپر سوار کر لے اور اس سے بدفالی لینے لگے۔“
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (26038) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔