❮
❯
حدیث نمبر: 2492
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : نَسِيجُ وَحْدِهِ ، فَقَعَدْنَا عَلَى دُكَّانٍ لَهُ عَظِيمٍ فِي دَارِهِ ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ : يَا غُلَامُ ، أَوْرِدِ الْخَيْلَ ، وَفِي الدَّارِ تَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ ، قَالَ : فَأَوْرَدَهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ فُلَانَةُ ؟ قَالَ : هِيَ جَرِبَةٌ تَقْطُرُ دَمًا ، أَوْ قَالَ : مَاءً ، شَكَّ إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : أَوْرِدْهَا ، فَقَالَ أَحَدُ الْقَوْمِ : إِذًا تَجْرَبُ الْإِبِلُ كُلُّهَا ، قَالَ : أَوْرِدْهَا ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْبَعِيرِ يَكُونُ فِي الصَّحْرَاءِ ثُمَّ يُصْبِحُ فِي كِرْكِرَتِهِ أَوْ مَرَاقِّهِ نُكْتَةٌ لَمْ يَكُنْ قَبْلُ ذَلِكَ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " .
ترجمہ

سیدنا ابوطلیحہ خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ، جنہیں ان کی بے مثال صفات کی وجہ سے «نَسِيجُ وَحْدِهِ» ”یکتائے روزگار“ کہا جاتا تھا، ملکِ فلسطین کے چند لوگوں کے ساتھ موجود تھے۔ ہم ان کے گھر میں ایک بڑے چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اے غلام! جانوروں کو پانی پلاؤ۔ گھر میں پتھر کا ایک بڑا حوض تھا، غلام انہیں پانی پلانے کے لیے لے آیا۔ انہوں نے دریافت کیا: فلاں اونٹنی کہاں ہے؟ غلام نے عرض کیا: وہ خارش زدہ ہے اور اس کے بدن سے خون (یا پانی، راوی ابراہیم کو شک ہے) ٹپک رہا ہے۔ انہوں نے حکم دیا: اسے بھی پانی پلانے کے لیے لاؤ۔ مجلس میں موجود ایک شخص نے کہا: (اگر اسے دیگر اونٹوں کے ساتھ شامل کیا) تو اس طرح تمام اونٹ خارش زدہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے فرمایا: اسے پانی پلاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیماری کا (بذاتِ خود اڑ کر) لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا، نہ بدشگونی لینا جائز ہے اور نہ ہی ہامہ (الو یا زمانہ جاہلیت کا کوئی وہم) کی کوئی حیثیت ہے۔ کیا تم نے اس اونٹ کو نہیں دیکھا جو صحرا میں (بالکل تندرست) ہوتا ہے، پھر اچانک اس کے سینے کے ابھرے ہوئے گوشت «كِرْكِرَتِهِ» یا پیٹ کے نرم حصوں «مَرَاقِّهِ» پر ایک ایسا نشان نمودار ہو جاتا ہے جو پہلے وہاں موجود نہ تھا، تو (بھلا بتاؤ کہ) پہلے اونٹ کو کس نے بیمار کیا تھا؟“
مسند ابویعلیٰ: 2492، اس کی سند حسن ہے، حافظ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے راویوں کو صحیح کے راوی قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2492
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8391، 8392، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3964»