❮
❯
حدیث نمبر: 2491
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ عُثْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ : حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ ، وَلَا يُعْدِي صَحِيحًا سَقِيمٌ " .
2491 \ 2 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیماری کا (اللہ کے حکم کے بغیر بذاتِ خود) اڑ کر لگ جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا، اور نہ ہی ہامہ (یعنی الو کے ذریعے بدشگونی لینے یا روح کے پرندہ بننے کے جاہلانہ عقیدے) کی کوئی اصل ہے، اور نہ ہی کوئی بیمار کسی تندرست کو (محض اپنی طبعی قوت سے) بیمار کر سکتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے عثمان بن ابی شیبہ اور ابن نمیر کے واسطے سے روایت کیا ہے، جبکہ اس کی دوسری سند عبد الاعلیٰ بن حماد نے حماد بن شعیب کے واسطے سے حبیب بن ابی ثابت سے نقل کی ہے، جنہوں نے ثعلبہ سے سنا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2491
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8390، 8391، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 7052»