❮
❯
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ " ، قُلْتُ : عَمَّنْ ؟ قَالَ : حَدِيثٌ مُسْتَفِيضٌ ، قُلْتُ : فَمَا الصَّفَرُ ؟ قَالَ : يَقُولُ النَّاسُ : وَجَعٌ يَأْخُذُ الْبَطْنَ .
ترجمہ

عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بیماری بذاتِ خود ایک سے دوسرے کو نہیں لگتی، نہ بدفالی کی کوئی اصل ہے، نہ صفر (کے مہینے) کی کوئی نحوست ہے اور نہ ہی ہامہ (الو کی بدشگونی) کی کوئی حیثیت ہے۔“ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے (عطاء سے) دریافت کیا: ”آپ یہ روایت کس سے نقل کر رہے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”یہ ایک مستفیض (مشہور و معروف) حدیث ہے۔“ میں نے پوچھا: ”صفر سے کیا مراد ہے؟“ انہوں نے کہا: ”لوگ کہتے ہیں کہ یہ پیٹ کا ایک درد ہے جو انسان کو لاحق ہوتا ہے۔“
یہ روایت صحیح ہے اور اس کے بنیادی مضامین صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مروی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2490
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5387، 5422، 5425، 5437، 5439، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 2220، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3911، وأخرجه مسند أحمد برقم: 8143، 9329، وأخرجه فتح الباري برقم: 5381، 5439، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19503، 19507، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6657، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 206، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 7064، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6115، 6116، 6117، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 66، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7088، 8899، 8948، 9004، 9990، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 1659، 2885، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 14155، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 2510»