المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ نفي العدوى والفرار مِنْ المجذوم وَالزَّجْرِ عَنْ الطيرة باب: چھوت کی نفی، جذامی سے دور رہنے اور بدشگونی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2489
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعُسْفَانَ ، فَإِذَا مَجْذُومٌ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ ، وَقَالَ : إِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنَ الْأَدْوَاءِ يُعْدِي فَهُوَ هَذَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقامِ عسفان کے قریب سے گزرے تو وہاں ایک کوڑھی (جذام کا مریض) موجود تھا، آپ ﷺ نے (اسے دیکھ کر) اپنی رفتار تیز کر دی اور ارشاد فرمایا: ”اگر بیماریوں میں سے کوئی چیز متعدی (ایک سے دوسرے کو لگنے والی) ہو سکتی ہے تو وہ یہی (مرضِ جذام) ہے“۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں خلیل بن زکریا نامی راوی ضعیف ہے، تاہم جذام سے دور رہنے اور احتیاط برتنے کے متعلق دیگر صحیح احادیث کتبِ صحاح میں موجود ہیں۔