المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ نفي العدوى والفرار مِنْ المجذوم وَالزَّجْرِ عَنْ الطيرة باب: چھوت کی نفی، جذامی سے دور رہنے اور بدشگونی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2488
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، مَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " .ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مرض کا (بذاتِ خود) متعدی ہونا اور بدفالی لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا، (اگر بیماری محض ایک سے دوسرے کو لگنے سے پھیلتی ہے تو) بھلا سب سے پہلے کو بیماری کس نے لگائی تھی؟“
یہ حدیث امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں روایت کی ہے اور اس کے رواة ثقہ ہیں۔