المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الرقى باب: دم اور جھاڑ پھونک کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَادَ مَرِيضًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا ، ذَكَرَ كَلَامًا ، فَقَالَ : لَا تَقُولُوا هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا كَانَ يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ مَا يَجِدُ ، وَآجِرْهُ فِيمَا ابْتَلَيْتَهُ " .سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ایک معتبر راوی کے واسطے سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک بیمار شخص کی عیادت کی، تو وہاں موجود لوگوں نے کچھ کلمات کہے، جس پر آپ نے انہیں ٹوکتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”ایسا مت کہو، بلکہ وہی کلمات کہو جو رسول اللہ ﷺ کسی مریض کی عیادت کرتے وقت فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ مَا يَجِدُ ، وَآجِرْهُ فِيمَا ابْتَلَيْتَهُ» ”اے اللہ! اس (بیمار) سے وہ تکلیف و اذیت دور فرما دے جسے یہ محسوس کر رہا ہے، اور اسے اس آزمائش پر اجر و ثواب عطا فرما جس میں تو نے اسے مبتلا کیا ہے۔““
مسدد نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جسے ”الثقة“ کہا گیا ہے۔