❮
❯
حدیث نمبر: 2483
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ هُوَ ابْنُ الصَّامِتِ قَالَ : كُنْتُ أَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ وَعْكِ الْغِبِّ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اعْرِضْهَا عَلَيَّ " ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْقِ بِهَا ; لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ " ، فَوَاللهِ لَوْلَا ذَلِكَ مَا رَقَيْتُ بِهَا إِنْسَانًا أَبَدًا .
ترجمہ

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: میں زمانۂ جاہلیت میں ایک دن چھوڑ کر آنے والے بخار کے لیے دم کیا کرتا تھا۔ اسلام آنے کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کلمات میرے سامنے پیش کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے ذریعے دم کر لیا کرو، اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔“ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ اجازت نہ دیتے تو میں کبھی کسی انسان کو اس کے ذریعے دم نہ کرتا۔
وضاحت: اس سند میں ابن اسحاق نے عبادہ بن ولید سے «عن» کے ساتھ روایت کی ہے؛ سماع کی تصریح موجود نہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2483
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8443، 8444، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 433»