❮
❯
حدیث نمبر: 2485
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حَيَّانَ ، ثَنَا أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرِضْتُ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُنِي فَعَوَّذَنِي يَوْمًا ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، أُعِيذُكَ بِاللهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفْوًا أَحَدٌ ، مِنْ شَرِّ مَا تَجِدُ " ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا قَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، تَعَوَّذْ بِهَا ، فَمَا تَعَوَّذْتُمْ بِمِثْلِهَا " .
ترجمہ

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ مجھ پر دم کر کے اللہ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے، چنانچہ ایک روز آپ ﷺ نے ان کلمات کے ساتھ مجھ پر تعوذ (دم) فرمایا: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، أُعِيذُكَ بِاللهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفْوًا أَحَدٌ ، مِنْ شَرِّ مَا تَجِدُ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے، میں تمہیں اللہِ واحد اور بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں، وہ ذات جس نے ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] نہ کسی کو جنا اور نہ ہی وہ کسی سے جنا گیا، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے، (تمہیں پناہ میں دیتا ہوں) اس بیماری و تکلیف کے شر سے جو تم (اپنے جسم میں) محسوس کر رہے ہو۔“ پھر جب رسول اللہ ﷺ (دم کرنے کے بعد) سیدھے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”اے عثمان! ان کلمات کے ذریعے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ تم لوگوں نے کبھی اس جیسی کسی اور چیز کے ساتھ پناہ طلب نہیں کی ہو گی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حفص بن سلیمان اگرچہ علمِ قرأت کے امام ہیں مگر علمِ حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2485
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8440، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3945»