المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ باب: اذان دینے والے کے اقامت کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 247
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا سَعِيدٌ السَّمَّاكُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَبْطَأَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا بِالْأَذَانِ ، فَأَذَّنَ رَجُلٌ ، فَجَاءَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقِيمُ مَنْ أَذَّنَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے میں کچھ تاخیر ہو گئی تو ایک دوسرے شخص نے اذان دے دی، پھر جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہی شخص اقامت کہے گا جس نے اذان دی ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (247) میں نقل کیا ہے، نیز یہ سنن ابی داود (514) اور جامع ترمذی (199) میں بھی مروی ہے، تاہم اس کی سند میں سعید بن محمد السَّمَّاک کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ روایت علمی طور پر ضعیف قرار دی گئی ہے۔