المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ الْأَذَانِ باب: اذان کے بعد کہے جانے والے کلمات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلُوا اللهَ تَعَالَى لِي الْوَسِيلَةَ ، لَا يَسْأَلُهَا لِي مُؤْمِنٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . "
[3]
246 \ 3 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ [عُبَيْدَةَ بِهَذَا] .
246 \ 4 - تَابَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے ”الوسیلہ“ (جنت کا وہ بلند ترین مقام جو کسی ایک ہی خاص بندے کو عطا ہوگا) کا سوال کیا کرو، کیونکہ دنیا میں جو بھی مومن میرے لیے اس کا سوال کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ بنوں گا یا اس کی شفاعت فرماؤں گا۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ اور عبد بن حمید نے عبید اللہ بن موسیٰ کے واسطے سے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، نیز احمد بن منیع نے ابومعاویہ کے طریق سے اسے نقل کیا ہے، جبکہ ولید بن عبدالملک نے موسیٰ بن اعین سے اس کی متابعت کی ہے اور امام طبرانی نے اسے اپنی کتاب ’المعجم الاوسط‘ میں تخریج کیا ہے۔