❮
❯
حدیث نمبر: 2466
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِنْتٌ لِي كَذَا وَكَذَا - فَذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا - فَأُوثِرُكَ بِهَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قَبِلْتُهَا " فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تُصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ قَطُّ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ " .
2466 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: ”اے اللہ کے رسول! میری ایک صاحبزادی ہے جو ایسی اور ایسی ہے“، اور انہوں نے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کیا، پھر کہا: ”میں اسے آپ ﷺ کے لیے پیش کرتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے قبول کر لیا۔“ وہ خاتون مسلسل اس کی تعریفیں کرتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی ذکر کر دیا کہ اس لڑکی کو کبھی سر میں درد نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے کبھی کسی بیماری کی کوئی شکایت کی۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہاری بیٹی کی کوئی حاجت نہیں ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور کہا کہ ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2466
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 12170، وأخرجه فتح الباري برقم: 4510، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3136/1، 3870/1»