المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ مِنْ لَا يمرض باب: اس شخص کی مذمت و برائی کا بیان جو کبھی بیمار نہ پڑتا ہو۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَقِيلٍ مَوْلَى الزُّرَقِيِّينَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَقِيلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ قَالَ : " مَنْ مِنْكُمْ يُحِبُّ أَنْ لَا يَسْقَمَ ؟ " فَابْتَدَرْنَاهُ ، فَقُلْنَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ الْحُمُرِ الصَّيَّالَةِ " ، وَتَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا فِي وَجْهِهِ التَّغَيُّرَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ بَلَاءٍ وَكَفَّارَاتٍ ؟ " فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُبْتَلَى بِالْبَلَاءِ ، وَذَلِكَ مِنْ كَرَامَتِهِ عَلَى اللهِ تَعَالَى ، وَإِنَّهُ لَيُبْتَلَى بِالْبَلَاءِ حَتَّى يَنَالَ فِيهِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللهِ تَعَالَى ، لَا يَنَالُهَا دُونَ أَنْ يُبْتَلَى بِذَلِكَ ، فَيُبْلِغُهُ اللهُ تَعَالَى تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ " .
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ضَعِيفٌ .
2465 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هُوَ ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، بِهِ بِنَحْوِهِ .سیدنا عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اسے کبھی کوئی بیماری لاحق نہ ہو؟" ہم سب نے فوراً عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم (یہی چاہتے ہیں)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تم سرکش اور آوارہ گدھوں کی مانند ہو جاؤ؟" یہ فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے روئے مبارک کی کیفیت بدل گئی یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم آزمائشوں اور گناہوں کے کفاروں والے لوگ بنو؟" صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بلاشبہ مومن کو آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی عزت و تکریم کی وجہ سے ہوتا ہے، اور اسے اس وقت تک مصیبت میں مبتلا رکھا جاتا ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ بلند مقام و مرتبہ حاصل نہ کر لے جو وہ بغیر آزمائش کے حاصل نہیں کر سکتا تھا، پس اللہ تعالیٰ اسے (آزمائش کے ذریعے) اسی مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔"
محمد بن ابی حمید ضعیف راوی ہے۔
امام ابوبکر نے بھی مصعب بن مقدام سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن ابی حمید سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے۔