المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فيمن ذهب بصره باب: بصارت سے محروم ہونے والے شخص کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخُتَّلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : إِذَا أَخَذْتُ مِنْ عَبْدِي كَرِيمَتَيْهِ ، وَهُوَ بِهِمَا ضَنِينٌ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ بِهِمَا ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ، إِذَا حَمِدَنِي عَلَيْهِمَا " .سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہارے رب عزوجل نے فرمایا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندے کی دو محبوب و قیمتی چیزیں (یعنی اس کی دونوں آنکھیں) لے لیتا ہوں، درآنحالیکہ وہ ان سے بے حد محبت رکھنے والا اور ان کے ضائع ہونے پر رنجیدہ ہو، تو میں ان دونوں کے عوض اس کے لیے جنت سے کم کسی بدلے پر راضی نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ اس آزمائش پر میری حمد و ثنا بیان کرے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، نیز اس کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔