المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فيمن ذهب بصره باب: بصارت سے محروم ہونے والے شخص کا بیان۔
حدیث نمبر: 2463
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هُشَيْمٍ .ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کی دو نہایت قیمتی اور محبوب چیزیں (یعنی اس کی دونوں آنکھیں) لے لیتا ہوں اور وہ (اس آزمائش پر) صبر کرتا ہے اور ثوابِ آخرت کی امید رکھتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت سے کم کسی بھی اجر و ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔“
امام ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز امام طبرانی نے اسے ’المعجم الاوسط‘ میں ایک اور سند کے ساتھ ہشیم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔