المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فيمن ذهب بصره باب: بصارت سے محروم ہونے والے شخص کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللهُ تَعَالَى : " إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدٍ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً " .
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دُونَ قَوْلِهِ : وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً ، إِلَى آخِرِهِ ، وَهِيَ زِيَادَةٌ مُنْكَرَةٌ ، وَسَعِيدٌ فِيهِ ضَعْفٌ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندے کی دو نہایت محبوب و قیمتی چیزیں (یعنی اس کی دونوں آنکھیں) واپس لے لیتا ہوں، تو میں اس کے لیے جنت سے کم کسی بھی ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہی اجر ملے گا اگرچہ وہ ایک ہی آنکھ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگرچہ وہ ایک ہی آنکھ ہو (تب بھی یہی عظیم اجر ہے)۔“
امام بخاری نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ”اگرچہ وہ ایک ہی آنکھ ہو“ والے الفاظ اور اس کے بعد کا سارا کلام موجود نہیں ہے، اور یہ اضافہ منکر (سخت ضعیف) ہے، نیز اس کی سند میں موجود راوی سعید بن سلیم ضعیف ہے۔