المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمْرَضُ مَرَضًا إِلَّا أَمَرَ اللهُ حَافِظَيْهِ أَنَّ مَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَلَا يَكْتُبْهَا ، وَمَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ أَنْ يَكْتُبَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَأَنْ يَكْتُبَ لَهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ ، وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جو کسی بیماری میں مبتلا ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت پر مامور دونوں فرشتوں کو یہ حکم فرما دیتا ہے کہ اس نے (اس بیماری کے دوران) جو بھی برائی کی ہو اسے ہرگز نہ لکھیں، اور جو بھی نیکی کی ہو اسے دس گنا نیکیوں کے برابر درج کریں، نیز اس کے لیے وہ نیک اعمال بھی لکھتے رہیں جو وہ اپنی صحت و تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا، اگرچہ (بیماری کے باعث) اس نے فی الوقت وہ عمل نہ بھی کیا ہو۔“
اس روایت کی سند میں عبد الاعلیٰ بن ابی المساور کذاب اور متروک راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ سند سخت ضعیف ہے، تاہم بیماری کی حالت میں صحت کے ایام کے معمولات کا اجر ملنے کا مضمون دیگر صحیح احادیث (مثلاً صحیح بخاری: 2996) سے ثابت ہے۔