المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا مَرِيضٌ ، مَغْلُوبٌ ، فَقَالَ : صَلَّى صَاحِبُكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّهُ لَيْسَ عَبْدٌ يَشْتَكِي إِلَّا كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ ، حَتَّى يَقْبِضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ يَرْفَعَهُ .ابن عجلان کے والد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس اس وقت تشریف لائے جب میں بیمار اور (نقاہت و بیماری کی وجہ سے) نڈھال تھا، انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے اس ساتھی نے نماز ادا کر لی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ اس پر انہوں نے فرمایا: ”آگاہ رہو! مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ جو بندہ بھی کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لیے وہ تمام نیک اعمال (بطورِ اجر) لکھتا رہتا ہے جو وہ اپنی صحت و تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اسے وفات دے دے یا اسے بیماری سے شفا عطا فرما کر تندرست کر دے۔“
اسے امام ابن حجر عسقلانی نے المطالب العالیہ میں روایت کیا ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری میں موجود ہیں۔