المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ ، فَيَذْكُرُ مُصِيبَتَهُ بَعْدَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَيُحْدِثُ لَهَا اسْتِرْجَاعًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَ ذَلِكَ مِثْلَمَا أُعْطِيَ يَوْمَ أُصِيبَ " .سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی مسلمان کو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے، پھر وہ چالیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اپنی اس آزمائش کو یاد کرتا ہے اور اس پر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ کہہ کر کلمہ استرجاع کی تجدید کرتا ہے، تو اللہ رب العزت اس موقع پر بھی اسے ویسا ہی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے جیسا اسے اس دن مرحمت فرمایا گیا تھا جس دن وہ مصیبت اس پر ٹوٹی تھی۔“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ہشام بن زیاد اور علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں۔