المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ : إِنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ ، فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ وَآخَرَ مَعَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدَانِ ، يَرْحَمُكُمَا اللهُ ؟ قَالَا : نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ ، فَقَالَا لَهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ قَالَ : أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةِ اللهِ وَفَضْلِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ : أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ ، وَحَطِّ الْخَطَايَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : إِنِّي إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَقُومُ مَضْجَعَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا ، وَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّي أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي هَذَا وَابْتَلَيْتُهُ ، فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَهُوَ صَحِيحٌ " .ابو الاشعث صنعانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ دمشق کی جامع مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور عین دوپہر کے وقت وہاں پہنچے، وہاں ان کی ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب سے ہوئی تو انہوں نے دریافت کیا: ”اللہ آپ دونوں پر رحم فرمائے، آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”ہم یہاں اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں“، راوی کہتے ہیں کہ وہ بھی ان کے ہمراہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ اس مریض کے پاس پہنچے اور ان دونوں نے اس سے دریافت کیا: «كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟» ”تم نے صبح کیسی کی؟“ اس نے جواب دیا: «أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةِ اللهِ وَفَضْلِهِ» ”میں نے اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ صبح کی ہے“، اس پر سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں گناہوں کے مٹنے اور خطاؤں کے جھڑ جانے کی خوشخبری ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: بے شک میں جب اپنے مومن بندوں میں سے کسی بندے کو (بیماری کی) آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ اس آزمائش پر میری حمد و ثنا بیان کرتا ہے، تو وہ اپنے اس بستر سے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو کر اٹھتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا، اور اللہ عزوجل (فرشتوں سے) فرماتا ہے: میں نے ہی اپنے اس بندے کو مقید کیا اور اسے آزمائش میں ڈالا، لہٰذا اس کے لیے وہی اجر جاری رکھو جو تم اس کی صحت و تندرستی کی حالت میں اس کے لیے جاری رکھتے تھے۔“
مسند ابی یعلیٰ کی اس روایت کی سند میں اسماعیل بن عیاش کی راشد بن داود سے روایت میں کلام ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجہ پر فائز ہے۔