المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَجَرَةٍ ، فَهَزَّهَا حَتَّى تَسَاقَطَ مِنْ وَرَقِهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَتَسَاقَطَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَوْجَاعُ وَالْمُصِيبَاتُ أَسْرَعُ فِي ذُنُوبِ ابْنِ آدَمَ مِنِّي فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک درخت کے پاس سے ہوا، پس آپ ﷺ نے اسے (پکڑ کر) حرکت دی یہاں تک کہ اس کے پتے اس قدر جھڑ گئے جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ وہ جھڑیں، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیماریاں اور مصائب ابنِ آدم کے گناہوں کو مٹانے میں اس سے کہیں زیادہ تیز ہیں جتنا (تیزی سے) میں نے اس درخت کے پتے جھاڑے ہیں۔“
مسند ابی یعلی: 2455، اس کی سند میں جابر الجعفی اور زیاد النمیری کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔