المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2453
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ ، قَالَ : اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قُلْتُ : لَوْ أَنَّ إِحْدَانَا فَعَلَتْ هَذَا خَشِيتُ عَلَيْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَا تَعْلَمِينَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِ مِنْ وَجَعِهِ لِيُحَطَّ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .ترجمہ
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ امہات المومنین میں سے کسی ایک (رضی اللہ عنہن) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ علیل ہوئے اور آپ ﷺ کی بیماری کی تکلیف میں بہت زیادہ شدت آ گئی، پھر جب آپ ﷺ کو کچھ افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی کہ اگر ہم میں سے کوئی (عورت) اس طرح کی تکلیف سے دوچار ہوتی تو مجھے اس کے حق میں (خطرہ اور) ڈر محسوس ہونے لگتا، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتیں کہ بلاشبہ مومن کی بیماری اور درد میں اس لیے سختی و شدت کر دی جاتی ہے تاکہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا بوجھ اتار دیا جائے؟“
امام مسدد نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے۔