المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2452
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الدَّرَجَةُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى ، فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلٍ حَتَّى يُبْتَلَى فِي جَسَدِهِ ، فَيَبْلُغُهَا بِذَلِكَ الْبَلَاءِ " .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
2452 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَزَادَ بَيْنَ جَبَلَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ : عَمَّنْ أَخْبَرَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک ایک شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص بلند درجہ و مقام ہوتا ہے، جس تک وہ محض اپنے عمل کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ اسے اس کے جسمانی معاملے میں کسی آزمائش و تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، چنانچہ وہ اسی آزمائش کی بدولت اس (مقررہ) مرتبے تک پہنچ جاتا ہے۔“
اس کی سند ضعیف ہے۔
نیز امام ابوبکر نے ابومعاویہ سے مروی اپنی روایت میں جبلہ اور ابن مسعود کے درمیان ایک (مبہم) واسطے کا اضافہ کیا ہے جس نے انہیں (جبلہ کو) خبر دی تھی۔