المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ كفارات المرض وثواب المريض وَأَنَّ المؤمن يشدد عَلَيْهِ ليزداد أجرا باب: بیماری کے کفارہ ہونے، مریض کے اجر اور مومن پر سخت بیماری سے اجر بڑھنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مِمَّ تَبَسَّمْتَ ؟ قَالَ : " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ وَجَزَعِهِ مِنَ السَّقَمِ ، وَلَوْ يَعْلَمُ مَا لَهُ فِي السَّقَمِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ سَقِيمًا حَتَّى يَلْقَى رَبَّهُ " . ثُمَّ تَبَسَّمَ الثَّانِيَةَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالُوا : مِمَّ تَبَسَّمْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : " عَجِبْتُ لِمَلَكَيْنِ نَزَلَا مِنَ السَّمَاءِ يَلْتَمِسَانِ مُؤْمِنًا فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَلَمْ يَجِدَاهُ ، فَعَرَجَا إِلَى اللهِ تَعَالَى ، فَقَالَا : يَا رَبِّ إِنَّ عَبْدَكَ فُلَانًا كُنَّا نَكْتُبُ لَهُ مِنَ الْعَمَلِ فِي كُلِّ يَوْمٍ كَذَا وَكَذَا ، وَإِنَّكَ حَبَسْتَهُ فِي حِبَالِكَ ، يَعْنِي : الْمَرَضَ ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى لَهُمَا : اكْتُبَا لِعَبْدِي مِثْلَ مَا يَعْمَلُ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَلَا تَنْقُصَاهُ شَيْئًا ، فَلَهُ أَجْرُ مَا عَمِلَ عَلَى أَجْرِ مَا حَبَسْتَهُ " .
2451 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ بِهِ .
هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ تبسم فرمانے لگے، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مومن اور بیماری پر اس کی بے قراری پر تعجب ہوا، حالانکہ اگر اسے معلوم ہو جائے کہ بیماری میں اس کے لیے کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ اس بات کو پسند کرتا کہ وہ اپنے رب سے ملاقات تک بیمار ہی رہتا۔“ پھر آپ ﷺ دوبارہ مسکرائے اور اپنا سرِ انور آسمان کی طرف اٹھا کر اسے دیکھا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ان دو فرشتوں پر حیرت ہوئی جو آسمان سے اترے اور ایک مومن بندے کو اس کے اس مقامِ نماز پر تلاش کرنے لگے جہاں وہ نماز پڑھا کرتا تھا، مگر انہوں نے اسے وہاں نہ پایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بلند ہوئے اور عرض کی: اے ہمارے رب! تیرا فلاں بندہ جس کے نیک اعمال ہم ہر روز اتنے اتنے لکھا کرتے تھے، تو نے اسے اپنی رسیوں میں مقید کر دیا ہے، یعنی اسے بیماری میں مبتلا کر دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرشتوں سے فرمایا: میرے بندے کے لیے ویسے ہی اعمال لکھو جیسے وہ ہر دن اور رات میں (تندرستی کے عالم میں) کیا کرتا تھا، اور اس میں کوئی کمی نہ کرو؛ اس کے لیے ان اعمال کا بھی ثواب ہے جو وہ کرتا تھا اور اس آزمائش کا بھی ثواب ہے جس میں اسے میں نے محبوس رکھا ہے۔“
امام طیالسی نے بھی اسے محمد بن ابی حمید کی سند سے روایت کیا ہے۔ یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے۔