المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ القسط باب: عدل و انصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2441
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَنْبَعِثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : بِهِ الْعُذْرَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا ، فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ " قَالَ : فَفَعَلُوا فَبَرَأَ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو وہاں ایک بچہ موجود تھا جس کے نتھنوں سے خون جاری تھا، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اسے عذرہ (گلے کی سوزش و درد) کی شکایت ہے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی اولاد کو کیوں اذیت میں مبتلا کرتی ہو؟ تم میں سے کسی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ قسطِ ہندی (جڑی بوٹی) لے، پھر اسے پانی کے ساتھ سات مرتبہ رگڑے، پھر اسے یہ دوا (بچے کے منہ میں) ٹپکا دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ بچہ صحت یاب ہو گیا۔
اس کی سند حسن ہے۔