المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الجلوس فِي الشَّمْسُ باب: دھوپ میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2442
( 102 ) تَقَدَّمَ فِي آدَابِ الْأَكْلِ .ترجمہ
یہ روایت آدابِ طعام کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تَسْتَقْبِلِ الشَّمْسَ ; فَإِنَّ اسْتِقْبَالَهَا دَاءٌ ، وَاسْتِدْبَارَهَا دَوَاءٌ " .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! سورج کی طرف چہرہ کر کے نہ بیٹھو؛ کیونکہ اس کا سامنا کرنا بیماری پیدا کرتا ہے اور اس کی جانب پیٹھ کرنا دوا اور باعثِ شفا ہے۔“
[مسند الحارث (بغية الباحث): 2442، اس کی سند میں حماد بن عمرو النصيبي نامی راوی کذاب اور وضاع ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے]