المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ باب: مؤذن کی اذان سن کر کہے جانے والے کلمات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَقُولُ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ ، وَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ ، وَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ".
فِيهِ ضَعْفٌ وَانْقِطَاعٌ .بنو ہاشم کے ایک فرد نبی کریم ﷺ سے پچھلی حدیث کی مانند روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم ﷺ جب مؤذن کو «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے ہوئے سنتے تو آپ ﷺ بھی اسی کی مثل کلمات دہراتے، اور جب مؤذن «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا، تو آپ ﷺ بھی اسی کی مانند فرماتے، اور جب وہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں“ کہتا، تو آپ ﷺ بھی وہی فرماتے جو وہ کہتا، لیکن جب مؤذن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ“ پکارتا، تو آپ ﷺ جواباً ارشاد فرماتے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی توفیق کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی قوت“۔“
اس کی سند میں کمزوری اور انقطاع پایا جاتا ہے۔