❮
❯
حدیث نمبر: 242
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي عَائِذٍ وَهُوَ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ ، فَمَنْ نَزَلَ بِهِ كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ فَلْيَتَحَيَّنِ الْمُنَادِي ، فَإِذَا كَبَّرَ كَبَّرَ ، وَإِذَا تَشَهَّدَ تَشَهَّدَ ، وَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، دَعْوَةِ الْحَقِّ الْمُسْتَجَابَةِ ، الْمُسْتَجَابِ لَهَا ، دَعْوَةِ الْحَقِّ وَكَلِمَةِ التَّقْوَى ، أَحْيِنَا عَلَيْهَا ، وَأَمِتْنَا عَلَيْهَا ، وَابْعَثْنَا عَلَيْهَا ، وَاجْعَلْنَا مِنْ خِيَارِ أَهْلِهَا مَحْيَانَا وَمَمَاتَنَا ، ثُمَّ يَسْأَلُ اللهَ حَاجَتَهُ ".
242 \ 2 - أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الدُّعَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، بِطُولِهِ
242 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ مِنْ طَرِيقِ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بِطُولِهِ .
242 \ 4 - وَأَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنِ الْهَيْثَمِ ، إِلَى قَوْلِهِ : " وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ " وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب پکارنے والا (مؤذن) نماز کے لیے پکارتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے، لہٰذا جس شخص کو کوئی دکھ، غم یا سخت تکلیف درپیش ہو اسے چاہیے کہ وہ مؤذن کی پکار کا انتظار کرے؛ پھر جب مؤذن تکبیر کہے تو وہ بھی تکبیر کہے، جب وہ کلمہ شہادت ادا کرے تو یہ بھی کلمہ شہادت ادا کرے، اور جب وہ مؤذن ”حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ“ کہے تو یہ بھی ”حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ“ کہے، اور جب وہ ”حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ“ کہے تو یہ بھی ”حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ“ کہے، پھر یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، دَعْوَةِ الْحَقِّ الْمُسْتَجَابَةِ، الْمُسْتَجَابِ لَهَا، دَعْوَةِ الْحَقِّ وَكَلِمَةِ التَّقْوَى، أَحْيِنَا عَلَيْهَا، وَأَمِتْنَا عَلَيْهَا، وَابْعَثْنَا عَلَيْهَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ خِيَارِ أَهْلِهَا مَحْيَانَا وَمَمَاتَنَا» ”اے اللہ! اس کامل پکار کے رب، اس برحق پکار کے رب جو شرفِ قبولیت پانے والی ہے اور جس کی پکار سنی جاتی ہے، جو سچائی کی دعوت اور تقویٰ کا کلمہ ہے، ہمیں اسی (ایمان و توحید) پر زندہ رکھ، اسی پر ہمیں موت عطا فرما، اسی پر ہمیں دوبارہ اٹھا، اور ہمیں زندگی اور موت دونوں حالتوں میں اس کے بہترین لوگوں میں شامل فرما۔“ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کرے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے کتاب ”الدعاء“ میں عبداللہ بن احمد کے واسطے سے حکم بن موسیٰ سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔
نیز اسے امام حاکم نے ”المستدرک“ میں ہیشم بن خارجہ کے واسطے سے ولید سے مفصل روایت کیا ہے۔
اور احمد بن منیع نے اسے ہیشم سے روایت کیا ہے لیکن ان کی روایت صرف ”اور دعا قبول کی جاتی ہے“ کے الفاظ تک ہے اور انہوں نے بعد والا حصہ ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 242
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2011، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 7496»