❮
❯
حدیث نمبر: 2407
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَأَكَلَ فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : أُرِي أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأُ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لائے اور کھانا تناول فرمایا، تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: ”کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ وضو کروں؟“
مسند الحارث: 2407، اس کی سند میں داؤد بن المحبر ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ محض کھانے کے لیے وضو (نماز والا وضو) واجب نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2407
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»