المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إطعام الطَّعَامِ باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ : ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ لَيْلَى قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ ، فَاعْتَزَلَ بَعْضٌ مِنْ ثَمَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُهُمْ ؟ قَالَ : صِيَامٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُؤْكَلُ عِنْدَهُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ .ترجمہ
سیدہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں آپ کی خدمت میں کھانا لے کر آئی ، لیکن وہاں موجود کچھ لوگوں نے (کھانے سے ) کنارہ کشی اختیار کی ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ”ان کا کیا معاملہ ہے ؟ “ (گھر والوں نے ) عرض کیا : وہ روزے دار ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جس کے پاس (دوسرے لوگ) کھانا کھائیں مگر فرشتے اس کے لیے (دعائے رحمت و استغفار) کرتے ہیں ۔ “