المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ذكاة مَا لَا يقدر عَلَى ذبحه باب: اس جانور کے ذبح کا بیان جسے معمول کے طریقے سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ابْتَعْنَا بَقَرَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَشْتَرِكَ عَلَيْهَا ، فَانْفَلَتَتْ مِنَّا فَامْتَنَعَتْ عَلَيْنَا ، فَتَعَرَّضَ لَهَا مَوْلًى لَنَا يُقَالُ لَهُ : [ ذَكْوَانُ ] بِسَيْفٍ فِي يَدِهِ وَهِيَ تَجُولُ بِالصِّمَادِ ، فَصَبَا إِلَى تَلٍّ فَلَمَّا مَرَّتْ بِهِ ضَرَبَهَا بِالسَّيْفِ فِي أَصْلِ عُنُقِهَا أَوْ عَلَى عَاتِقِهَا فَخَرَقَهَا بِالسَّيْفِ وَوَقَعَتْ فَلَمْ نُدْرِكْ ذَكَاتَهَا فَخَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْجِذْعِ فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا لَهُ شَأْنَهَا ، فَقَالَ : كُلُوا ، إِذَا فَاتَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْبَهَائِمِ شَيْءٌ فَاحْبِسُوهُ بِمَا تَحْبِسُونَ بِهِ الْوَحْشَ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک گائے خریدی تاکہ ہم (قربانی یا گوشت میں) اس پر شریک ہو جائیں ، لیکن وہ ہم سے چھوٹ کر بھاگ گئی اور قابو میں نہ آئی ، تو ذکوان نامی ہمارے ایک آزاد کردہ غلام نے ہاتھ میں تلوار لیے اس کا پیچھا کیا جب کہ وہ ٹیلے اور صحرا کے ارد گرد چکر لگا رہی تھی ، چنانچہ وہ ایک اونچے ٹیلے کی طرف بڑھا اور جب وہ گائے اس کے پاس سے گزری تو اس نے اس کی گردن کی جڑ یا کندھے پر تلوار کا وار کیا اور اسے تلوار سے زخمی کر کے گرا دیا ، ہم اسے (زندہ) ذبح نہ کر سکے ۔ پھر میں اور عبداللہ بن ثابت بن جذع رضی اللہ عنہ نکلے تو ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم (اسے ) کھاؤ ، اور ان مویشیوں میں سے جو جانور تمہارے قابو سے نکل کر بھاگ جائے ، تو اسے اسی طریقے سے قابو میں لاؤ (یا روک لو) جس کے ذریعے تم وحشی جانوروں کو روکتے ہو ۔ “