❮
❯
حدیث نمبر: 2376
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَوَحَّشَتْ بَقَرَةٌ لَنَا ، فَخَرَجَ رَجُلٌ فَضَرَبَهَا أَسْفَلَ مِنَ الْعُنُقِ وَفَوْقَ مَرْجِعِ الْكَتِفِ ، فَرَكِبَتْ رَدْعَهَا ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْبَقَرَةُ الْإِنْسِيَّةُ إِذَا نَزَلَتْ مَنْزِلَةَ الْوَحْشِيَّةِ يُحِلُّهَا مَا يُحِلُّ الْوَحْشِيَّةَ .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ہماری ایک گائے وحشی (بدک کر سرکش) ہو گئی ، تو ایک شخص نکلا اور اس نے اس کی گردن کے نچلے حصے اور کندھے کے جوڑ کے اوپر والے حصے پر (تیز دھار ہتھیار سے ) وار کیا ، جس سے وہ فوراً اپنے ہی خون میں لت پت ہو کر گر پڑی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (کے حلال ہونے ) کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پالتو گائے جب وحشی (اور سرکش) جانور کی جگہ آ جائے (یعنی قابو سے باہر ہو جائے ) ، تو اسے وہی چیز حلال کر دیتی ہے جو وحشی جانور کو حلال کرتی ہے (یعنی اضطراری ذبح/نشانہ بنانا) ۔ “

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيد / حدیث: 2376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18997»