المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الجراد باب: ٹڈی کے احکامات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ كَيْسَانَ ، ثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَلَّ الْجَرَادُ فِي سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّتِي وَلِيَ فِيهَا فَسَأَلَ عَنْهُ فَلَمْ يُخْبَرْ بِشَيْءٍ فَاغْتَمَّ لِذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ رَاكِبًا إِلَى الْيَمَنِ ، وَرَاكِبًا إِلَى الشَّامِ ، وَرَاكِبًا إِلَى الْعِرَاقِ ، فَسَأَلَ : هَلْ رُوِيَ مِنَ الْجَرَادِ شَيْءٌ أَمْ لَا ؟ فَأَتَاهُ الرَّاكِبُ الَّذِي مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ بِقَبْضَةٍ مِنْ جَرَادٍ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهَا كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَلْفَ أُمَّةٍ ، مِنْهَا سِتُّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ ، وَأَرْبَعُ مِائَةٍ فِي الْبَرِّ ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَهْلَكُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجَرَادُ ، فَإِذَا هَلَكَتْ تَتَابَعَتْ مِثْلَ النِّظَامِ إِذَا انْقَطَعَ سِلْكُهُ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ایک سال ٹڈیاں کم ہو گئیں ، تو انہوں نے ان کے بارے میں دریافت کیا لیکن انہیں کچھ خبر نہ مل سکی ، جس پر وہ شدید غمگین ہوئے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک سوار یمن کی طرف ، ایک شام کی طرف اور ایک سوار عراق کی طرف روانہ کیا اور دریافت کروایا کہ : کیا ٹڈیوں میں سے کچھ دیکھا گیا ہے یا نہیں ؟ تو جو سوار یمن کی طرف سے آیا وہ اپنے ساتھ ایک مٹھی ٹڈیاں لے کر آیا اور انہیں آپ کے سامنے ڈال دیا ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو تین بار تکبیر ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہی ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”اللہ عزوجل نے ایک ہزار مخلوقات (یا انواع) پیدا فرمائی ہیں ، جن میں سے چھ سو سمندر میں ہیں اور چار سو خشکی میں ہیں ، اور ان میں سے سب سے پہلے جو مخلوق ہلاک (نابود) ہوگی وہ ٹڈی ہے ، پھر جب وہ ہلاک ہو جائے گی تو دیگر مخلوقات بھی پے در پے یوں ختم ہونے لگیں گی جیسے تسبیح (یا لڑی) کا دھاگا ٹوٹ جائے تو اس کے دانے مسلسل گرنے لگتے ہیں ۔ “