المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تسمية الشاة بركة باب: بکری کو برکت کہنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، [قَالَ] : حَدَّثَتْنِي أُمُّ رَاشِدٍ ، مَوْلَاةُ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نِصْفَ النَّهَارِ فَقَالَتْ : قَدِّمِي إِلَى أَبِي الْحَسَنِ طَعَامًا ، قَالَتْ : فَقَدَّمْتُ مَا كَانَ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا لِي لَا أَرَى عِنْدَكُمْ بَرَكَةً ؟ فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَلَيْسَ هَذَا بَرَكَةً ! قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَيْسَ أَعْنِي هَذَا ، أَمَا لَكُمْ شَاةٌ ؟ قُلْتُ : لَا وَاللهِ مَا لَنَا شَاةٌ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی ام راشد سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنها کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: ابو الحسن (علی رضی اللہ عنہ) کے سامنے کھانا پیش کرو، ام راشد کہتی ہیں: میں نے گھر میں جو کچھ موجود تھا پیش کر دیا، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں تمہارے ہاں برکت (کی علامات) نہیں دیکھتا؟“ اس پر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنها نے عرض کیا: کیا یہ کھانا برکت نہیں ہے! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری مراد یہ (طعام) نہیں ہے، کیا تمہارے پاس کوئی بکری نہیں ہے؟“ میں (ام راشد) نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کوئی بکری نہیں ہے۔