المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الجراد باب: ٹڈی کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2370
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، ثَنَا فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً نَفَذَتْ فِيهَا أَزْوَادُنَا ، فَلَمْ يَكُنْ طَعَامٌ نَأْكُلُ إِلَّا الْجَرَادَ حَتَّى قَفَلْنَا مِنْ غَزْوِنَا .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَغَيْرِهِمَا بِلَفْظِ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسا غزوہ لڑا جس میں ہمارا توشہ ختم ہو گیا ، چنانچہ (اس وقت) ہمارے پاس کھانے کے لیے ٹڈی کے سوا کوئی طعام نہ تھا ، یہاں تک کہ ہم اپنے غزوہ سے واپس لوٹ آئے —“
مؤلف فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیحین (بخاری و مسلم) وغیرہ میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے : ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات اس حال میں لڑے کہ ہم (ان میں) ٹڈیاں کھایا کرتے تھے ۔ “