المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُؤَذِّنِينَ باب: مؤذنوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 236
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُمْ فِي الْكَلَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
مُرْسَلٌ
[2] وَقَدْ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مَوْصُولًا .ترجمہ
سیدنا ابوالخیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اذان دینے والے (مؤذنین) قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے (یعنی نہایت ممتاز اور معزز) ہوں گے، اور وہ پہلے لوگ ہوں گے جنہیں قیامت کے دن کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔“
یہ روایت مرسل ہے، جبکہ اسے امام طبرانی نے ”المعجم الاوسط“ میں ابن لہیعہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ ابوالخیر سے اور انہوں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسے موصولاً (سنداً متصل) روایت کیا ہے۔