المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُؤَذِّنِينَ باب: مؤذنوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 235
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا الْإِفْرِيقِيُّ ، ثَنَا سَلَامَانُ بْنُ عَامِرٍ الشَّعْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الْمُؤَذِّنُ فَضْلُهُ عَلَى مَنْ حَضَرَ الصَّلَاةَ بِأَذَانِهِ عِشْرُونَ وَمِائَةٌ ، فَإِنْ أَقَامَ فَأَرْبَعُونَ وَمِائَتَا حَسَنَةٍ ، إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”موذن کو ان تمام لوگوں پر جو اس کی اذان سن کر نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں، ایک سو بیس نیکیوں کی فضیلت و برتری حاصل ہوتی ہے، اور اگر وہ خود ہی اقامت بھی کہے تو اسے دو سو چالیس نیکیوں کا اجر ملتا ہے، سوائے اس شخص کے جو (اذان و اقامت کے وقت) موذن ہی کی طرح کلمات کہے (تو وہ بھی اس اجر و فضیلت کو پا لیتا ہے)۔“
[مسند الحارث (زوائد الہیثمی): 249، اس کی سند میں عبد اللہ بن زیاد الافریقی راوی ضعیف ہے]۔