المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ الذئب باب: بھیڑیے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْأَوْبَرِ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ قِصَّةً ... قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَارِجًا وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ ، إِذْ جَاءَهُ الذِّئْبُ حَتَّى أَقْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ بَصْبَصَ [بِذَنَبِهِ] . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا الذِّئْبُ ، وَهَذَا وَافِدُ الذِّيَابِ ، فَمَا تَرَوْنَ ؟ أَتَجْعَلُونَ لَهُ مِنْ أَمْوَالِكُمْ شَيْئًا ؟ ، فَقَالَ النَّاسُ : لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا نَجْعَلُ لَهُ مِنْ أَمْوَالِنَا شَيْئًا . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَرَمَاهُ بِحَجَرٍ فَأَدْبَرَ وَلَهُ عُوَاءٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذِّئْبُ وَمَا الذِّئْبُ " . ثَلَاثَ مِرَارٍ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف فرما تھے اور ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے سامنے اپنی رانوں پر بیٹھ گیا، پھر اس نے اپنی دم ہلائی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھیڑیا ہے اور یہ بھیڑیوں کا نمائندہ (پیغام لانے والا) ہے۔ تو تمہاری کیا رائے ہے؟ کیا تم اس کے لیے اپنے اموال میں سے کچھ دیتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! نہیں، یا رسول اللہ! ہم اسے اپنے اموال میں سے کچھ نہیں دیں گے۔“ پس ایک آدمی اس کی طرف کھڑا ہوا اور اسے پتھر مارا تو وہ چیختا ہوا (منہ پھیر کر) بھاگ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بھیڑیا! اور کیا ہے بھیڑیا؟“ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔