المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ اقتناء الكلب باب: کتا پالنے اور اسے پاس رکھنے کی ممانعت اور اس پر زجر و توبیخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2332
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی ایسا کتا پالا جو نہ مویشیوں کی حفاظت کے لیے ہو اور نہ شکار کے لیے ہو، تو اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہو جاتے ہیں۔“