المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ قتل الكلاب باب: کتوں کو قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2331
وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، فَخَرَجْتُ لَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ ، فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ ، فَذَهَبْتُ لِقَتْلِهِ فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ بَيْتٍ ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ ؟ قُلْتُ : أَقْتُلُ هَذَا الْكَلْبَ ، قَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ بِضَيْعَةٌ ، وَهَذَا الْكَلْبُ يَمْنَعُ عَنِّي السَّبُعَ ، وَيُؤْذِنُ بِالْخَايِنِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَمَرَنِي بِقَتْلِهِ .ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پس میں نکلا اور جو کتا بھی دیکھا اسے قتل کر دیا۔ اتنے میں ایک کتا چکر لگا رہا تھا، میں اسے مارنے کے لیے بڑھا تو مجھے گھر کے اندر سے ایک عورت نے آواز دی، ”کیا کرنا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں اس کتے کو مارنے لگا ہوں۔“ اس عورت نے کہا: ”میں ایک تنہا اور کمزور عورت ہوں، اور یہ کتا مجھ سے درندوں کو دور رکھتا ہے اور چور کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔“ پس میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے یہ بات عرض کی، تو آپ ﷺ نے مجھے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔“