❮
❯
حدیث نمبر: 2329
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْبَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَذِنَّا " فَقَالَ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ ، فَنَظَرُوا فَوَجَدُوا جَرْوًا فِي بَعْضِ بُيُوتِهِمْ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْتُ ، فَلَمْ أَدَعْ فِي الْمَدِينَةِ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَاصِيَةٍ وَلَهَا كَلْبٌ يَنْبَحُ عَنْهَا ، فَكَأَنِّي رَحِمْتُهَا فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَلْبِ فَقَتَلْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : مَا يَحِلُّ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا ؟ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ " .
2329 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ بِطُولِهِ .
2329 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ بِتَمَامِهِ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرْسَلَ الرَّجُلُ كَلْبَهُ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَلْيَأْكُلْ مَا لَمْ يَأْكُلْ .
ترجمہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ سے (گھر میں داخل ہونے کی) اجازت چاہی، آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی تو جبریل علیہ السلام نے (اندر آنے میں) تاخیر کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر لی اور ان کی طرف بڑھے، جبریل علیہ السلام دروازے پر ہی کھڑے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے (تو) اجازت دے دی ہے۔“ تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: ”جی ہاں، یا رسول اللہ! لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو اور نہ کوئی کتا ہو۔“ پھر صحابہ نے دیکھا تو انہیں اپنے گھروں میں سے ایک گھر میں کتے کا ایک بچہ ملا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مدینہ میں کوئی کتا باقی نہ چھوڑوں مگر اسے قتل کر دوں۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں نے ایک دور دراز علاقے کی عورت کو دیکھا جس کے پاس ایک کتا تھا جو اس کی طرف سے بھونک رہا تھا، تو گویا مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، اور آپ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے (بھی) قتل کر دوں۔ چنانچہ میں واپس گیا اور اس کتے کو قتل کر دیا۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(اس واقعے کے بعد) لوگوں نے پوچھا: ’یا رسول اللہ! اس اُمت (یعنی کتے کی اس نسل) میں سے ہمارے لیے کیا چیز حلال ہے جسے آپ نے قتل کرنے کا حکم دیا ہے؟‘ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4]۔“
ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو ابوبکر سے مکمل طور پر روایت کیا ہے۔
المقدمی نے کہا: ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے موسیٰ بن عبیدہ نے اسے مکمل روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے (شکاری) کتے کو (شکار کے لیے) چھوڑے اور اللہ کا نام لے تو وہ اس (شکار) کو کھائے جب تک کہ کتے نے خود اس میں سے نہ کھایا ہو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الذبائح / حدیث: 2329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذه الأسانيد التي ذكرها المصنف ضعيف؛ لضعف "موسى بن عبيدة الربذي"، لكن هذا الضعف منجبر بمتابعة محمد بن إسحاق له كما أخرجه الحاكم، والبيهقي. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 2050، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 19»