المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ قتل الكلاب باب: کتوں کو قتل کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ بِنْتِ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْعَنَزَةَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْتُلَ كِلَابَ الْمَدِينَةِ ، فَقَتَلَهَا إِلَّا كَلْبًا ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ .
2328 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا هِشَامٌ ، بِهِ .
2328 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا هَارُونُ الْخَزَّازُ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ [أَبِي] كَثِيرٍ ، عَنْ بِنْتِ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، نَحْوَهُ .سیدتنا بنت ابی رافع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو ایک نیزہ (چھوٹا برچھا) عطا فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ مدینہ کے کتوں کو مار ڈالیں۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے (اکثر) کتوں کو مار ڈالا سوائے ایک کتے کے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (باقی رہ جانے والے) اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا۔
امام حارث نے بھی یہی حدیث عبدالعزیز بن ابان کے واسطے سے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی محمد بن ابی بکر، ہارون الخزاز، علی بن المبارک، یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے سیدتنا بنت ابی رافع رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔