المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ حل مَا ليس لَهُ ناب باب: ان جانوروں کی حلت کا بیان جن کے کچلی والے (شکاری) دانت نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 2325
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، رَجُلٍ مِنْ [بَنِي] فَزَارَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ تَقُولُ فِي الضَّبِّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ ، فَلَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ .ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک بدوی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا خطبہ روک کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ گوہ (ایک صحرائی چھپکلی) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟“ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت کو (ان کی نافرمانی کی وجہ سے) مسخ کر دیا گیا تھا، تو میں نہیں جانتا کہ وہ (مسخ ہو کر) کن جانوروں کی شکل میں تبدیل ہو گئے تھے۔“