المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العقيقة وَمَا يَصْنَعُ بالمولود باب: عقیقہ اور نومولود کے ساتھ کیے جانے والے اعمال و احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2307
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جُبَارَةُ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنِ الْحُسَيْنِ ، [وَقَالَ مَرَّةً عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا] ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى ، وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى ، لَمْ تَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ .ترجمہ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور بعض اوقات (یہی روایت) سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان کہے اور بائیں کان میں اقامت کہے، تو اسے اُم الصبیان (یعنی جنات سے لاحق ہونے والی بچوں کی بیماری) نقصان نہیں پہنچائے گی۔“