المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
حدیث نمبر: 2301
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُضْحِيَّةِ ، فَقَالَ : اكْرَهْ وَاجْتَنِبِ الْعَوْرَاءَ ، بَيِّنٌ عَوَرُهَا . وَالْعَرْجَاءَ بَيِّنٌ عَرَجُهَا ، وَالْمَرِيضَةَ بَيِّنٌ مَرَضُهَا ، وَالْمَهْزُولَةَ بَيِّنٌ هُزَالُهَا " .ترجمہ
ابوالخصیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قربانی کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”میں (قربانی کے لیے) ایسے جانوروں کو ناپسند کرتا ہوں اور ان سے بچتا ہوں جو کانے ہوں اور جن کا کانا پن بالکل واضح ہو، اور ایسے لنگڑے جانور سے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، اور ایسے بیمار جانور سے جس کی بیماری ظاہر ہو، اور ایسے لاغر جانور سے جس کا لاغر پن واضح ہو“۔