المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ - مُؤَذِّنُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمُصَلَّى قَالَ لِرَجُلَيْنِ : مَا عِنْدَكُمَا مَا تُضَحِّيَانِ بِهِ ؟ قَالَا : لَا ، فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَأَخْرَجَ شَاتَهُ ، قَالَ : تَقَبَّلَ اللهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَمِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ ، ثُمَّ أَخَذَ كَبِدَهَا أَوْ شَيْئًا مِنْهَا ، فَأَكَلُوا مِنْهَا ، ثُمَّ جَزَّأَهَا ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَانْقَلَبَ الرَّجُلَانِ بِثُلُثَيْهَا ، وَدَخَلَ بَيْتَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الثُّلُثُ " .ابراہیم مؤذنِ اہل مدینہ کے والد سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مصلیٰ (نماز پڑھنے کی جگہ) میں دیکھا، انہوں نے دو آدمیوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس قربانی کرنے کے لیے کچھ ہے؟“ اُن دونوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں اپنے گھر لے گئے اور اپنی ایک بکری نکالی۔ انہوں نے دعا کی: «تَقَبَّلَ اللهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ» ”اللہ ابوہریرہ سے اور فلاں فلاں سے (یعنی ان دونوں آدمیوں سے) قبول فرمائے۔“ پھر آپ نے اس کا کلیجہ یا اس کا کچھ حصہ لیا اور سب نے اس میں سے کھایا۔ اس کے بعد آپ نے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا۔ چنانچہ وہ دونوں آدمی اس کے دو تہائی حصے لے کر واپس چلے گئے اور ایک تہائی حصہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل کیا گیا۔