المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ - أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَمَّنْ أَخْبَرَنَا بِهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : قُومِي يَا فَاطِمَةُ فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ ، أَمَا إِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا مَغْفِرَةً لِكُلِّ ذَنْبٍ ، أَمَا إِنَّهُ يُجَاءُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلُحُومِهَا وَدِمَائِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا ، ثُمَّ يُوضَعُ فِي مِيزَانِكِ " .
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " أَهَذِهِ لِآلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً ، فَهُمْ أَهْلٌ لِمَا خُصُّوا بِهِ مِنْ خَيْرٍ ، أَمْ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَلِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : بَلْ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَلِلنَّاسِ [عَامَّةً] " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے فاطمہ! اٹھو اور اپنی قربانی کا مشاہدہ کرو۔ یاد رکھو! اس (قربانی) کے خون کا جو پہلا قطرہ گرے گا، اس کے بدلے تمہارے ہر گناہ کی مغفرت ہو جائے گی۔ خبردار! قیامت کے دن اس (قربانی) کو اس کے گوشت اور خون سمیت ستر گنا (بڑھا کر) لایا جائے گا، پھر اسے تمہارے میزان (نیکیوں کے پلڑے) میں رکھا جائے گا۔“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے (اس حدیث کو سن کر) فرمایا: ”کیا یہ فضیلت آلِ محمد (ﷺ) کے لیے خاص ہے، کیونکہ وہ اس خیر کے مستحق ہیں جس کے ساتھ انہیں مخصوص کیا گیا ہے، یا آلِ محمد (ﷺ) اور عام لوگوں، دونوں کے لیے ہے؟“ (راوی نے) کہا: ”بلکہ یہ آلِ محمد (ﷺ) اور عام لوگوں (سب) کے لیے ہے۔“